Wazir Ali of Skardu Baltistan - Urdu version



 عشق میں صرف ہونا ہوتا

عشق میں شمار نہیں ہوتا

اُس دن کے چار والنٹیرز میں سے ایک آٹھویں جماعت کے بچے سے میں نے بلیو بیگ سے کٹر نکالنے کو کہا، اسکو ڈھونڈنے میں دیر لگی تو دوسرے بچے نے لوکل یعنی بلتی زبان میں اک اواز لگائی جسکا مطلب تھا "آفس سے کینچی لیتے آو" بیگ سے کٹر بھی مل گیا اور ایک بنا یونیفارم کا بچہ کینچی بھی لے آیا۔
میں نے اسکی طرف دیکھا اور شکریہ کہا اور رسی کاٹ کر باندھنے لگا۔۔۔ دوبارہ کاٹنے کی ضرورت پہ اسی نے کینچی پیش کردی۔
میں نے پھر شکریہ ادا کیا۔۔۔ اور پوچھا بوائے آپ کونسی کلاس میں ہیں؟
وہ بولا سر میں گریڈ ون ہوں۔
اوہ واہ جی، یہاں بچے بڑی عمر میں بھی داخلہ لے سکتے؟ واہ
اور وہ مسکراتے ہوئے بولا، نہیں سر میں ادھر سٹوڈنٹ نہیں ہوں میں گریڈ ون ہوں ادھر میں جاب پہ ہوں۔

۔۔۔ اس بار اسکو ہاتھ روک کر دیکھنا بہت فطری سا لگا۔

مسکراہٹ قائم کی اور اس سے کہا اچھا واہ بھئی "تو فائدہ اٹھائیں اور اسی سکول میں پڑھائی بھی کریں"۔
سر یہاں وقت نہیں ہوتا میں تو سب بچوں سے بہت پہلے آتا ہوں اور انکے بعد میں جاتا ہوں۔

۔۔۔ توقف کیبعد میں نے پوچھا، آپکا نام کیا ہے؟
وزیر علی
واہ۔۔۔ خوبصورت نام ہے۔

اچھا تو وزیر صاحب آپ تو پھر بڑے کام کے بندے لگتے ہو آپ تو ساری کلاسز کو اور استادوں کو جانتے ہو، يقينا آپ تو بہت ذہین ہونگے، آپ سے سیکھنا چاہئے کیونکہ آپ تو سکول چلانے والوں میں شامل ہیں۔ گریڈ ون کی تو مجھے خبر نہیں، آپ اب سے میرے لئے گریٹ ون بوائے ہوئے۔
اور وہ باقی چاروں بچوں کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔۔۔
اور سب اسکی طرف دیکھ کر ہسے۔۔۔

ڈرائینگ کرو گے؟ پسند ہے؟
پینسل سے چیزیں بنانا۔۔۔
۔۔۔ سر بچپن میں تھا

اوکے، وزیر، آج آپ ہماری کلاس میں شامل ہیں، ہم یہ نمائش لگانے کیبعد، ڈرائینگ کی اک ورکشاپ میں اکٹھے ہو رھے ہیں اور آپ کو بھی آنا ہے۔

میں، وزیر اور چار والنٹیرز، وائیر فکسنگ کر کے تصویریں لگانا شروع کر رھے تھے، جب اسکو کسی کام سے پھر آفس بلا لیا گیا۔۔۔
اس بچے کا بار بار شکریہ سننے سے لیکر ڈرائینگ کی کلاس میں شمولیت تک کا مختصر احوال، اسکی آنکھوں میں پڑی ویران مسکراہٹ اور تجسس کا ٹھہراؤ دونوں میرے دل میں گھر کر چکے تھے۔

ڈرائینگ کی کلاس کیلئے مختلف کلاسز سے بچے اکٹھے ہو رھے تھے اور میں نے دو بار اسکو برآمدے میں سے گزرتے، مجھے دیکھتے ہوئے دیکھا۔

بچے چَھٹی کلاس میں جمع ہوئے اور ساتھ میں دو اساتذہ بچوں کو خاموش اور ڈسپلنڈ رکھنے کیلئے اسی کلاس میں آئے، میرا تعارف اردو مکس بلتی میں شروع ہوا تو میں نے معذرت اور مداخلت کی۔۔۔ مسکرا کر استاد صاحب سے التجا کی کہ اگر اجازت دیں تو اب یہ میری کلاس ہوئی، سٹوڈنٹس اور میں خود آپس میں بات کرتے ہیں اور آپ ہماری رہنمائی کیلئے ہمارے ساتھ رہیں۔

میں اپنے خیال کو بننے لگا، کلاس جمع ہو چکی تھی اور وہ کلاس سے باھر تھا۔۔۔

بہانے سے بچوں اور اپنے لئے پانی منگوایا، یقینی طور یہ پانی چپڑاسی کو ہی لانا تھا اور وزیر علی کو کلاس میں لانا یہی میری اسوقت کی دلی طلب بھی تھی۔۔۔

اسکو برآمدے میں سے ہی پانی کا کولر، جگ اور گلاس لانے کا حکم مل چکا تھا۔

بچوں کے نام اور تعداد شمار ہوتے ہوتے ہمیں سراب کرنے والا وزیرِ علی بھی آگیا، اس نے میری طرف نہایت ادب اور سوالیہ انداز سے دیکھا۔
مجھے لگا میں مومن خان مومن کی یہ سطر اسکے چہرے اور اس عمل کی بیچ پڑھ رھا ہوں "دریا میں ہے سراب یا سراب دریا میں"

میں نے پانی لانے پہ کلاس کیطرف سے اسکا شکریہ ادا کیا تا کہ ساری کلاس اس لمحہ اپنی توجہ میری اگلی بات سے جوڑے بھی اور میری بات قوی بھی لگے۔

اس نے پانی کونے میں رکھا اور اساتذہ کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔

میں نے اساتذہ کیطرف دیکھا اور کہا سر آج ہماری کلاس میں اک سپیشل انٹری بھی ہے اور میں نے وزیر کو آگے آنے اور بیٹھنے کو کہا۔۔۔

محبت میں قوت تو ہوتی ہے مگر محکوم اور عاجز طالب اسکا استعمال نہیں کر سکتا اور یہ تحریر اس وقت وزیر علی کے چہرے پہ رقم تھی۔

اک استاد صاحب نے کہا سر یہ ہمارا گریڈ ون ہے اور اسکے زمہ بڑے کام ہیں اسکو رھنے دیں۔۔۔ اسکا کیا کام۔۔۔

میں نے کہا، سر آج تین گھنٹے کیلئے یہ ہماری کلاس کا حصہ ہے اور آپ دیکھیں تو یہ انہی بچوں کا ہم عمر بھی ہے، آج اسکے کام کوئی اور کرے گا اور وزیر علی ہمارے ساتھ ڈرائینگ کرے گا۔

سر آن مائی ھمبل ریکوسٹ۔۔۔

اک استاد صاحب نے بتایا کہ ابھی تین پیرڈز باقی ہیں اور اسکو ہر پیریڈ پہ بل بھی بجانی ہوتی۔۔۔
استاد صاحب کی یہ بات بھی میرے دل کے ہر دیچے پہ یوں ہی گونجی جیسے وزیر علی کی گھنٹی سارے سکول میں گونجتی ہوگی اور کئیوں کو جگا دیتی اور نئی ترتیب باندھتی ہو گی۔

اس اک لمحے کی گونج نے جیسے میرا سسکنا منجمد کر دیا اور لکنت کھاتے الفاظ سے میں نے کہا۔۔۔
سر معذرت آج میری ریکوسٹ پہ اس کو اس کلاس کا حصہ بننے دیں۔۔۔ اور ساتھ میں، میں نے بچوں کو بھی ریکوسٹ میں ڈال دیا۔۔۔ سب نے کہا یس سر۔۔۔ اور یوں وزیر کو خوشدلی سے قبول کیا گیا۔۔۔

یہ اک خیراتی سکول تھا اور یہاں کے بچے نہایت غریب گھروں سے تعلق رکھتے ہیں سو مجھے اس عمل پہ کم ہی مزاحمت اٹھانا پڑی۔

کلاس شروع ہوئی وزیر علی کی خوشی دیدنی تھی
(یہ بات بس ہم تين ہی جانتے تھے کہ دکھ سے خوشی میں اترتے اور منجمد ہوتے احساس کو کب اور کیسے اظہار کی حدت سے بچانا ہے) واہ کہ اس وقت وزیر علی کا بلند مان دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا، اعتماد کے قوی وجود کا یہ سسکتا پہاڑ اپنے سکول کے بچوں کے سامنے جیسے دریائے سندھ پہ اپنا عکس پیش کر رھا تھا۔
میں اس مراقبے کی کیفیت سے جلد نکلنا اور کلاس اسٹارٹ کرنا چاھتا تھا اور جلد ہی میں نے اس غیر مرئی کیفیت پہ قابو پایا۔۔۔ کلاس شروع ہوئی۔

غیر روائیتی گپ شپ کے آغاز نے ماحول کو مزید دوستانہ کر دیا۔۔۔ استاد صاحبان اک اک کر کے کلاس سے نکل گئے۔۔۔

وزیر کا اس کلاس میں آنا بچوں کے صوفیوں جیسے دلوں کو یہ باور کروا چکا تھا کہ ہم سب آج کسی اور جہاں کو تلاش کرنے نکلے ہیں اور وہ جہاں اصل میں انکے اندر ہی موجود تھا۔
آبزرویشن بیسڈ ڈرائینگ کی یہ کلاس وزیر علی کی طرح باقی بچوں کا بھی پہلا ایکسپیرینس تھا۔ سب نے خوب مزہ بھی کیا اور بہت خوبصورت کام بھی کیا۔

کورے کاغذوں پہ یہ ڈرائینگ کلاس میں ہونے والی پانچویں اسائنمنٹ ہے جس میں بچے درخت کی کہانی بناتے ہیں، انکے دماغ میں لگے اک درخت کی کہانی، اک ایسا درخت جو اپنے ماحول سے جوجتا رھتا ہے، موسموں کے تغیرات میں بھی کیسے محبت قائم کئے ہوئے، فرض کسی قرض کیطرح ادا کرتے ہوئے یوں خاموش رھتے اپنا ربط اپنے ماحول سے جوڑے رکھتا ہے۔

آبادی سے دریا تک اور پھر اُس پار خشک پہاڑ تلے بھی درخت، اور اسکے ارد گرد پنسل سے بنایا جانے والا ہر لمحہ ماحول کا عکاس ہے، گویا وزیر علی کی یہ درخت کہانی بلتی زبان میں نا لکھے جانے کے باوجود بلتستان کا سیاق و سباق رکھتی ہے۔ یہی تعلق بچے اور درخت کا وجود ہے جس میں نگار کے دل و نگاہ اسکے اطراف کے مسجود ہیں۔

اس کورے کاغذ پہ اک عدد "8" بھی لکھا ہوا ہے جو اپنے اندر احساس کے کئی سال بن رھا ہے، دراصل بچوں سے اس اسائنمنٹ پہ اپنا نام، کلاس اور سکول لکھنے کو کہا گیا، میں جیسے یہ بھول ہی گیا کہ میرا خاص سٹوڈنٹ کیا لکھے گا میں نے وزیر علی کی طرف دیکھا اور اس خیال پہ خود کو یار دیرینہ کے در پہ پایا کہ وہ میری ہی طرف خاموشی سے سوال لئے دیکھ رھا تھا، میں آگے بڑھا اور دو زانوی اسکی سامنے بیٹھ گیا، رکو اور سجود کے اس وقف میں یہ خیال آیا اور میں نے اس سے کہا، وزیر اگر آپ سکول نا چھوڑتے تو آج جس کلاس میں ہوتے بس وہی کلاس لکھ دو تو اس نے بےساختہ انداز سے یوں آٹھ کا ہندسہ لکھ دیا۔

کھو جانا اور تہہ تک رسائی کی کوشش کرنا میریے بچپن سے میری فطرت میں شامل رھا ہے میں نے اس لمحے اس کے اس لکھنے کو بھی بالکل آسان نا جانا۔۔۔
گلگت بلتستان کی اس یاترا پہ نکلنے سے پہلے میں "8" کے ہندسے کو شہروز کاشف کیلئے بنائے جانے والے لو گو کو ڈیزائن کرنے سے پہلے اسکے کئی پہلوؤں سے اسکی تحقیق کر چکا تھا اور وزیر علی کا یہ آٹھ لکھنا، میٹا فوریکلی مجھے کئی خیال و جواب دے گیا تھا۔
۔۔۔میں خاموش رھا مگر اسکے سامنے سے اٹھ گیا۔

یوں وہ سرائیت اور میرا وہاں ہونا مجھے یاد رھتا ہے۔

#CarbonRoadsideArts #zaheerchaudhry

No comments:

Post a Comment

NCA Triennale Nov 1 Nov 30th 2025