Gilgit Baltistan Summer 2022



اڈیشنل چیف سیکریٹری گلگت بلتستان جناب عزیز احمد جمالی صاحب جو تعلم اور صحت پہ وسعت اور مثبت خيالی رکھنے کے ساتھ ساتھ عملی تجربہ بھی رکھتے ہیں، انہوں نے بلوچستان کے دور افتاده علاقوں میں بھی تعلیم اور صحت پہ اپنی کوششوں سے کئی اک عملی اقدامات اٹھائے اور وہ تمام اقدامات آج بھی اپنی مثال آپ ہیں کہ جسکے ثمرات آج بھی بلوچستان کی عوام تک پہنچ رھے ہیں۔

اس سال انکی گلگت بلتستان میں تعیناتی گلکت بلتستان خاص باالخصوص دور افتادہ علاقوں کے لوگوں کی خوش قسمتی ہے اور یہی وہ سوچ، منصوبہ بندی‌ اور عمل کا مقام تھا جو انہوں نے کاربن روڈ سائڈ آرٹس کے ڈائریکٹر، ویول اکیٹیوسٹ اور آرٹسٹ ظہیر چوہدری کو گلگت بلتستان میں مزید آرٹس ایکٹیوٹیز کیلئے بلایا اور اس بار اسکا دائرہ کار مزید وسعي کرتے ہوئے خاص طور پہ گلگت غزر میں اشکومن اور بلتستان میں، کھرمنگ اور کھنچھے کے اضلاع میں دور تک قائم سرکاری سکولوں میں بچوں اور بچیوں کی روائیتی تعلیم کیساتھ ساتھ انکی فطری تخلیقی صلاحیتوں کو جانچنے اور اس پروجکٹ کو اک پائیلٹ ٹسٹ رن کے طور پر دور افتادہ علاقوں تک پھلاکیا۔

یوں ۲۰ جون ۲۰۲۲ کو برمس گلگت میں قائم يتيم بچوں کے ایک منفرد اسکول بابل العلم سے اس کا بابرکت آغاز ہوا اور آخری سیشن کا انعقاد مدینہ اھل بیت ماڈل سکول سکردو میں ہوا، یوں تقريبا ساٹھ دن تک پاکستان میں ویول آرٹ کی تعلیم کا یہ منفرد پروگرام جو خاص طور پہ دیہی بچوں کیلئے تھا ٣١ اگست ٢٠٢٢ کو اپنے سمر سیشن کے اختتام کو پہنچا۔

اس وقت کے سیکریٹری محکمہ تعلیم گلگت بلتستان جناب ضمیر عباس صاحب نے اے، سی، ایس، جی بی جمالی صاحب کے اس پروگرام کو عملی جامہ پہنایا اور محکمہ تعلیم کو اس عملی تعلیم کیلئے متحرک بھی کیا۔

پراجیکٹ کاربن روڈ سائیڈ آرٹس جسے ظہیر چوھدری خود چلا رھے تھے اس پروگرام کے ساٹھ سے زائد دنوں کے دورانئے میں ۲۵۰۰ سے زائد طلبہ اور طالبات نے مشاہدہ کو بنیاد بناتے ہوئے ڈرائینگ ورکشاپ میں بھر پور حصہ لیا اور ڈرائینگ کے تمام بنیادی قاعدوں کو نا صرف جانا بلکہ اسکی عملی مشقیں بھی کیں۔

اسکولز میں کاربن روڈ سائیڈ آرٹس کی دوسری کاوش ان تاریخی وادیوں کی انکی تاریخ میں ہونی والی پہلی با قاعدہ تصویری نمائشوں کا انعقاد تھا جو بچوں کیلئے کسی آرٹ فیسٹیول سے کبھی کم کا نہیں رھا۔

گلگت بلتستان میں موبائل فون کا بڑھتا ہوا رجحان اور سیاحتی مقامات پہ سیاحوں کی بھر پور آمد نے عکس کاری اور تصویری کہانی کے رجحان کو بھی بڑھایا ہے کاربن روڈ سائڈ آرٹس کی تصویری نمائشوں نے بچوں میں مشاہدہ اور عکس کاری دونوں کو ہی فروغ دیا پاکستان بھر کے بچوں کی تصاویری کہانیوں نے خوب نا صرف داد پائی مگر اس تہذیی اور ثقافتی اقدار سے لیس پاکستان کے مختلف علاقوں کے بچوں کو بھی اک دوسرے کو جاننے کی فن کی بھی تربیت پائی اور یہ سب اک تصویر کی اہمیت اور اسکی بصری قوت کے بدولت تھا اور یہی ویول آرٹس کا رجحان برھانا اور بچوں میں انکے تعلیم معیار کو بڑھانا مقصد تھا تاکہ وہ دور حاضر میں جب اگے بڑھیں تو انکو نئے تقاضوں کی بھی خبر اور مہارت ہو۔

اسی سلسلے کو اگے بڑھانے کا اک سلسلے دسویں جماعت کے اسٹوڈنٹس سے غیر رسمی بات چیت کے ذریعے سے انکے آئندہ انے والے سالوں میں انکی تعلیمی آپشنز کو بڑھانے کیلئے فائن آرٹس، ڈیزائن، ملٹی مڈییا، آرکیٹیکچر اور دوسرے علوم پہ بات ہوتی اور انکو انکے اپنے شوق اور رجحانات کو آگے لانے اور انکے حوصلے کو بڑھانے کی بات ہوتی۔

اے، سی، ایس، جی، بی جمالی صاحب کے خاص توجہ دلانے پہ گذر میں نوجوانوں بڑھتے ہوئے خودکشی کے واقعات کو دسویں کے بچوں سے انکے تعلیمی مسائل پہ بات چیت ہوئی جسکا مقصد انکو زندگی کی اہمیت اسکی خوبصورتی اور مختلف اسباب کو جاننا اور مواقع تلاش کرنا تھا تاکہ ہمارے یہ معمار اپنی اہمیت اور صلاحیتوں کو پہچان سکیں۔

خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس مقررہ مدت میں کُل 108 سيشنز ہوئے، جس میں ڈرائینگ ورکشاپس جو کہ کبھی کلاس رومز، ھالز اور کبھی سکولز کے برآمدوں میں ہوئیں جسمیں 2500 سے زائید بچوں نے ڈرائینگ کی بنیادی تعلیم اور اپنے اطراف کی دنیا کی بناوٹ کو اس سے جوڑنا اور سمجھنا سیکھا، ہماری خوش قسمتی کہ ان علاقوں میں سے بیشتر سے بھی زیادہ جگہوں کے بچوں کیلئے یہ پہلی باقاعدہ آرٹ کلاسز تھی۔

فوٹوگرافی نمائش جنکا انعقاد میدانوں، برآمدوں اور کھلی جگہوں پہ ہوا اور الحمدللہ 10000 سے زائید بچوں اور بڑوں نے ان تصویری نمائشوں کو دیکھا اور پھر سے یہ کہنا اور فخر کرنا پڑے گا کہ لوگوں کی اکثریت نے اپنی زندگی کی پہلی باقاعدہ تصویری نمائش کو دیکھا اور تصویر پہ بات کی۔

اور ماہ محرم سے پہلے ہم نے کچھ علاقوں میں شام ڈھلے بچوں اور بڑوں کیلئے سینما کا بھی اہتمام کیا۔

تصویر جو لمحوں کو قید نہیں بلکہ انہیں محفوظ کرنے کا نام ہے جسکی من پہ پرچھائی یاد کی روشنی سے مزین رھتی۔ ان تمام محفوظ لمحوں میں بچوں کی آوازیں انکی شرارتیں، انکے نا ختم ہونے والے سوالوں کے سلسلے کا شروع ہونا ہماری ترجیحات میں اک خاص تھا۔

کوئی بھی خیال عمل کی چادر اڑھ ہی نہیں پاتا جب تک لگن، کوشش اور دلچسپی اسکا ماخز نا بنے، کاربن روڈ سائیڈ آرٹس کے ہر سیشن کو اپکی توجہ اور رہنمائی نے مکمل اور کامیاب کیا، بچوں کی آنکھوں میں سوالوں کے تاک کُھلے اور جوابوں کو چمک عطا ہوئی اور یہ سب ہم نے مل کر کیا اس کوشش کا کوئی اختتام نہیں کیونکہ یہ افق پہ پہلی کرن تھی۔

ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم کے تمام سربراہان اور اساتذہ کا نہایت شکریہ اور سب سے بڑھ کر بلند ارادوں کے بیچ بسنے والے ذہین اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال بچوں کا شکریہ جنہوں ہمارے اندر انکے لئے فکر کی نئی راہیں متعین کرنے میں ہم سب کو مامور کیا۔

 

No comments:

Post a Comment

NCA Triennale Nov 1 Nov 30th 2025