![]() |
استاد نے تو صرف سبق لکھنے کو دیا ہو گا مگر اس بچے کو اس سبق سے کہیں زیادہ سیکھنے کا ملا، اپنے لفظوں کو مڑتی سطروں پہ کیسے قائم رکھنا ہے یہ فن، فنِ تحریر سے بہت آگے کا ہے، اس نے جلد پا لیا اور ہم کو دیر لگی۔۔۔
۲۰۰۹ میں میرا پہلا سیاحتی امتحان تھا اور وادئ نیلم میرا امتحانی مرکز، کچھ پچاس کلومیٹر 3 دن میں پیدل چلا، ڈھابا ہوٹل کے بینچ پہ بھی سویا اور بند مسجد کی دیوار ٹاپ کر اسکے برآمدے میں بھی، انہی راستوں پہ یہ استاد ملے اور میں اپنی بندھی پروازوں کو انکے اسباق کی سبب بھول گیا۔۔۔ پھر کبھی واپس نہیں آیا۔۔۔
وحشی تھے بوِ گل کی طرح سے جہاں میں ہم
نکلے تو پھر کے نام آئے اپنے مقاں میں ہم (آتش)

No comments:
Post a Comment